
غفران امتیازی مرحوم پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک نامور پروڈیوسر تھے جنہوں نے PTV میں اپنی 29 برسوں کی یادوں پر مشتمل ایک سرگزشت لکھی اپنی کتاب میں جس کا نام ہے " بیتے دن بیتی یادوں " ۔ ا س کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان ٹیلیویژن کی تاریخ نے اس سوانح عمری کو ایک اہم حوالہ جاتی کتاب بنا دیا ہے ۔ یہ کتاب برقی میڈیا صنعت سے وابستہ لوگوں کے لیئے اور ان لوگوں کے لیے جو اس میدان میں آنا چاہتے ہیں اسے ایک ٹیکسٹ بک کا درجہ رکھتی ہے غفران صاحب نے اس کتاب کے انتساب میں لکھا ہے کہ "یہ کتاب خصوصی طور برقی میڈیا کے طلبہ کے نام ہے " اس کتاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ ایک طرف ایک عمدہ سوانح عمری ہے تو دوسری طرف اس کتاب میں غفران امتیازی صاحب نے اپنے درجن بھر ساتھیوں کے خوبصورت خاکے بھی تحریر کیئے ہیں جن میں سے اکثر ٹیلی ویژن کی دنیا میں لیجنڈ کہ حیثیت رکھتے ہیںکتابوں کا تعارف اور کتابوں سے اقتباس کے سلسلے میں آج میں نے ان کا مضمون منتخب کیا ہے "میں اور میرا خاندان " ۔یہ مضمون کا آغاز وہ اس سوال سے کرتے ہیں کہ" میں کون ہوں اے ہم نفسو "سے اور ان کا یہ پورا مضمون اس سوال کا جواب ہے ۔ مضمون کہ طوالت کے پیش نظر یہ پیش خدمت ہے پانچ قسطوں میں آج کی اس پہلی قسط میں غفران امتیازی صاحب نے تعارف کروایا ہے اپنے بزرگوں کا اپنے والدین کا۔